ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مرکزی سرکار کی پابندی کے بعد کشمیرمیں جماعت اسلامی کے تین لیڈر گرفتار

مرکزی سرکار کی پابندی کے بعد کشمیرمیں جماعت اسلامی کے تین لیڈر گرفتار

Mon, 04 Mar 2019 12:17:14    S.O. News Service

جموں؍ سری نگر،4؍مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )جموں کشمیر پولیس نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے تین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ریاست کے چھ اضلاع میں ایک درجن سے زیادہ مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ریاست کے کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، پونچھ، رجوری اور جموں اضلاع میں ہفتہ کو جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں اور دفاتر میں چھاپے ماری کی گئی اور اس دوران بڑی تعداد میں برآمد دستاویزات ضبط کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی سے وابستہ کم از کم چھ بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلا اور متعلقہ بینکوں کو اس پرپابندی اور بینک اکاؤنٹ کو منجمد کرنے کے لیے ہدایات جاری کردئے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت نے جمعرات کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جماعت اسلامی جموں و کشمیر کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ رکھنے کے معاملہ میں پانچ سال کے لئے پابندی عائد کر دی تھی۔نریندر مودی کی صدارت میں سیکورٹی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے غیر قانونی سرگرمی ایکٹ کے تحت اس تنظیم کو محدود کرنے کے ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کی گئی تھی۔تنظیم کے سرکردہ لیڈران سمیت 150 کارکنوں کو وادی کشمیر میں گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔حکام نے بتایا کہ محمد ماجد شیخ، محمد اقبال نائیک، غلام قادر بھٹ کو کشتواڑ سے گرفتار کیا گیا جبکہ جماعت کے دیگر رہنما غلام نبی گڈانا کو گھر میں نظربند کر دیا گیا ہے؛ کیونکہ حال ہی میں ان کا آپریشن ہو ا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جماعت کے دو کارکنوں کو ڈوڈہ میں حراست میں لیا گیا جنہیں پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔افسر نے بتایا کہ ان اضلاع میں جماعت اسلامی کی جانب سے چلائے جانے والے تمام اسکولوں میں ہفتہ کو تلاشی لی گئی تاہم، ان اسکولوں کو سیل نہیں کیا گیا ہے لیکن ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔اس دوران صوبہ کانگریس کے نائب صدر اور سابق وزیر جی ایم سرور نے حکومت کی اس کارروائی کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کیخلاف کارروائی ملک کے جمہوری ڈھانچے کے خلاف ہے۔کشتواڑ ضلع کے رہنے والے سرور نے کہا کہ :’جماعت اسلامی کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں ہے ۔گزشتہ چھ دہائیوں سے یہ تنظیم ریاست میں 300 سے زائد اسکول چلا رہی ہے اور ہزاروں تعلیم نوجوانوں کو روزگار فراہم کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی تنظیم کے خلاف کارروائی آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ’ سیاسی انتقام‘ سے متاثر ہے ‘ ۔ محمد اقبال نائیک کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ بہت ہی شریف آدمی شخص ہیں اور ڈاکٹر کے طور پر اپنی خدمات عوام میں مفت دے چکے ہیں ۔ 


Share: